جمعہ، 2 جون، 2023

پیر، 29 مئی، 2023

pencil

 


مال کی وجہ سے ہلاکت

 ایک شخص "ثعلبہ" فقر سے تنگ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا...

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور آپ  سے اپنے لئے وسعت مال کی دعا کرنے کی گزارش کی....
اور کہنے لگا جب مال آئے گا..میں صدقہ خیرات کروں گا...
غریبوں کی مدد کروں گا....
..
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی...
اس شخص کو اللہ نے اتنا مال دیا کہ پہلے تو اس نے اپنے شہر میں ہی مال مویشی رکھے تھے...
لیکن وہ اتنے زیادہ ہوتے گئے کہ اس نے شہر سے بار سکونت اختیار کر لی...اور اس مال میں وہ اتنا مشغول ہوا کہ آہستہ آہستہ جمعہ پڑھنا چھوڑ دیا..
پھر کچھ عرصہ بعد جماعت بھی چھوڑ دی...
لیکن ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جب عامل کو زکوة لینے بھیجا تو...
اس نے جواب دے دیا کہ دین میں ٹیکس نہیں ہوتا..

عامل یہ جواب جب لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اللہ کی طرف سے یہ أیات نازل ہوئی.
"ومنھم من عھد اللہ لئن آتنا من فضلہ لنصدقن ولنکونن من الصلحین.
فلما اتھم من فضلہ بخلوا بہ وتولوا وھم معرضون.
فاعقبھم نفاقا فی قلوبھم الی یوم یلقونہ بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ وبما کانوایکذبون.(القران)
ان ایات  کا خلاصہ یہی واقعہ ہے...

تو اب اس ثعلبہ کو اس کے کسی ساتھی  نے بتایا کہ تیرے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی ہے..
تو وہ بھاگا بھاگا آپ کے پاس آیا اور زکوة کے قبول کرنے کی عرض کی لیکن...اللہ کے نبی نے "فاعقبھم نفاقا" والی أیت سے سمجھ لیا تھا کہ اللہ نے قیامت کے دن تک اس کے دل میں نفاق ڈال دیا ہے..

اس لئے اللہ کے نبی نے اس کا مال قبول نہ کیا..
یہ شخص پھر حضرت ابوبکر صدیق رض کے دور میں بھی ایا..لیکن انہوں نے بھی قبول نہ کیا
اور حضرت عمر رض کے دور میں بھی أیا لیکن انہوں نے بھی اسے واپس بھیج دیا...
حضرت عثمان رض نے بھی قبول نہ کیا...
انکے دور میں پھر یہ مر گیا...

اب اس واقعہ کا مقصد کیا ہے...
اس سے بہت سے سبق حاصل ہوتے ہیں 
پہلا سبق جو میرے زہن میں آیا وہ یہی تھا کہ اللہ نے جس کو جتنی دولت دے ہے..وہ اس کے ہی لائق تھا...
زیادہ اور کم دونوں کی صورت میں اسی کا نقصان ہے...
اس شخص کو اللہ کے نبی سے برکت کی دعا کروانی چاہیے تھی لیکن...اس نے اللہ کے نبی سے کثرت کو طلب کیا...

دوسرا سبق یہ کہ اسلام کے احکام کو اس نے خفیف ہلکا سمجھ لیا تھا.. اور مزاق اڑانے لگ گیا تھا..
اور مال کی مشغولیت میں عبادات کو بھی بھول گیا اور یہ بھی بھول گیا کہ یہ مال اس کو کس کی دعا سے ملا تھا....

ہمیں چاہیےجو ہمیں اللہ نے دیا ہے اسی پر  قناعت کریں..اور اسلام کے احکام پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن ذبان درازی سے بالکل اجتناب کریں...

متین احمد,راولپنڈ

 مدارس اور ان میں دی جانے والی تعلیم

میں نے  جب میٹرک مکمل کی تو میرے پاس تعلیم کا کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا کہ آگے کیسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے،میٹرک میں نےکمپیوٹر سائنس میں کی تھی

 

paper chemistry -پنجاب بورڈ کے تعلیمی نظام کی حالت

 آج کزن کا دسویں کا کیمسٹری کا پیپر تھا۔۔

اس کی پریکٹیکل کے پیپر کی طرف بالکل توجہ نہیں تھا۔۔
کیونکہ اسکول والوں نے اس طرف توجہ ہی نہیں کی اور سر نے بھی کہا تھا کہ لکھی لکھائی پریکٹیکل کی کتابیں خرید لیں اور بس۔۔۔"
رات کو میں نے اس کو تھوڑا موٹیویٹ کیا اور بتایا کہ پریکٹیل کے پیپر میں تجربات ہوتے ہیں جن کو امتحان کی جوابی شیٹ میں لکھا جاتا ہے۔۔۔۔اور پھر وہاں موجود ممتحن پریکٹیکل کی کاپی چیک کرتے ہیں اور پھر وائیوا کے طور پر زبانی سوالات بھی پوچھے جاتے ہیں۔۔
رات کو بارہ بجے تک اس کو یوٹیوب پر کیمیکل لیب کی ویڈیوز بھی دکھائی اور بتایا کہ باہر ممالک میں اس طرح نویں دسویں کے بچوں کو بھی پریکٹیکل سکھایا جاتا ہے۔۔
۔۔
ابھی صبح پیپر دے کر آیا تو پوچھا:- ہاں جی پریکٹیکل کیسا رہا۔۔؟
کہنے لگا:- کہ امتحان میں جو سوالات تھے سر نے تمام بچوں کو کہا پریکٹیکل کی کتاب جو لائے ہو اسی میں سے دیکھ کر لکھو اور بس امتحان ختم۔۔۔"
اور میں جو یہ سوچ رہا تھا کہ بچے کی تعلیمی حوالے سے پنجاب بورڈ کے تحت تربیت اچھی ہو گی۔۔مگر میں غلطی پر تھا۔۔
پاکستان کے تعلیمی نظام نے اس تربیت کی دھجیاں ادھیڑ دی۔۔
اب اپ ہی بتائیں ملک ترقی نوجوانوں سے ہی کرتا ہے اور جب نوجوانوں کو سکھانے یعنی پریکٹیکل کے مواقع ہی فراہم نہ کیے جائیں تو وہ صرف رٹا مار کر ملک کی ترقی میں کیا کردار ادا کر سکیں گے۔۔۔؟؟
براہ مہربانی ایسے اسکول اور کالج جن میں پریکٹیکل کے بغیر صرف پڑھایا جاتا ہے ان کو بند کر دینا چاہیے۔۔۔۔
پریکٹیکل کے بغیر کوئی علم مکمل نہیں ہوتا۔۔اور پریکٹیکل بغیر استاد اور ضروری اشیاء کے ممکن ہی نہیں۔۔
اب کوئی یہ نہ کہے کہ دسویں کے بچوں کو پریکٹیکل کروانا ممکن نہیں۔۔!!

جمعرات، 25 مئی، 2023

buisness water -شربت کا کاروبار

 بازار میں بیٹھے اس شربت والے سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ گرمی اور رش والے دن میں پانچ،چھ ہزار کی دیہاڑ بھی لگ جاتی ہے۔۔اور روزانہ کے دو تین ہزار تو کہیں نہیں گئے۔۔

مہینہ کا حساب لگا لیں۔۔
انویسمنٹ میں صرف دو کولر ہوں اور شربت بنانے کا سامان بس کمائی شروع۔۔۔نہ کوئی تعلیم نہ کوئی تجربہ۔۔
ہم لوگ کام تو ایسا ڈھونڈتے ہیں جس کو کرتے ہوئے ہمارا مقام و عزت بلند ہو۔۔مگر قابلیت ہم میں ایسی شربت فروش جیسی بھی نہیں ہوتی۔۔۔
اس لئے اگر آپ کو کام نہیں ملتا تو کسی دن شربت بیچ کر دیکھے۔۔شاید آپ کو مزہ آ جائے۔۔