پیر، 17 اپریل، 2023

*مغلیہ سلطنت*

 *مغلیہ سلطنت*

تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے..
آج سے 500 سال پہلے برصغیر پر ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی تھی..جو 330 سال تک جاری رہی تھی...
سلطنت کی بنیاد رکھنے والے بادشاہ کا نام "ظہیر الدین محمد بابر" تھا..
اور یہ سلطنت "مغلیہ سلطنت" کہلائی تھی..
اس سلطنت کی بڑی بڑی یاد گار جیسے شاہی قلعہ لاہور،اگرہ تاج محل,بادشاہی مسجد اور بہت کچھ آج بھی دنیا کے نقشوں میں سر فہرست ہیں..
تاج محل تو "عجائبات سبعہ" میں شامل ہے..
تاج محل" مغلیہ سلطنت کے پانچویں حکمران "شاہ جہان" نے اپنی چہیتی بیوی کے مقبرے پر تعمیر کروایا تھا..جس کا نام ممتاز تھا..
اور شاہ جہان کی اس چہیتی بیوی کے چودہ(14) بچے پیدا ہوئے تھے..
جن میں سے سات بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے..
شاہ جہان کے بعد عالمگیر نے حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور عالمگیر کے بعد مغلیہ سلطنت نااہل جانشینوں کی وجہ سے زوال پزیر ہوتے ہوتے 1857 میں انگریزوں نے اس حکومت کا وجود بالکلیہ ہی مٹا دیا..
دلچسپ بات جو میں بتانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ تین سو تیس سال تک چلنے والی اس شاندار حکومت کی ابتداء کرنے والے ظہیر الدین محمد بابر نے پـانـچ مرتبہ برصغیر پر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر اس کو شکست ہوئی اور اس کے حملوں کو سرحدی جھڑپوں سے زیادہ حیثیت نہ ملی....
مگر اس نے ہمت نہ ہاری اور آخر کار اپنے چھٹے حملے میں پنجاب فتح کیا اور پھر دہلی کی جانب بڑھتے ہوئے پانی پت کے مقام پر اس نے ابراہیم لودھی کی بڑی فوج کو شکست فاش دی..اور اس کے بیٹے ہمایوں نے آگے بڑھ کر آگرہ اور دہلی پر قبضہ کر لیا..
اور یوں مغلیہ سلطنت نے جڑیں پکڑی اوربڑھتی ہی چلی گئی....
اگر بابر پہلی شکستوں کے بعد ہمت ہار کر بیٹھ جاتا تو آج تاریخ تو کیا کسی بھی قصے میں مغلیہ سلطنت کا نام و نشان بھی نہ ہوتا..
مگر اس کی مسلسل اور مضبوط ہمت نے تاریخ رقم کر دی...
ہمیں بھی بعض مواقع اور کاموں میں مسلسل ناکامی کا سامنا رہتا ہے..مگر بے ہمت ہو کر بیٹھ جانے کی بجائے اگر محنت جاری رکھی جائے تو کبھی نہ کبھی ایسا قدم ضرور اٹھے گا کہ زندگی سنور جائے گی...
اس پوسٹ میں میں نے مکمل کوشش کی ہے کہ مزاق کے بجائے سنجیدگی رکھوں اور شـادی کا ذکر نہ چھیڑوں حالانکہ میں کہہ سکتا تھا..کہ گھر اور باہر سے مسلسل انکار کے بعد بھی ہمت نہ ہاری جائے اور شادی کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں..
آج کل شادی کرنا کسی بڑی سلطنت کی بنیاد رکھنے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے..
لیکن میں اس پوسٹ میں شادی کا ذکر نہیں کر رہا بلکہ بابر کی پہلی پانچ ناکامیوں سے دوسرے امور جیسے تجارت میں ناکامی ،امتحان میں ناکامی،رشتوں میں ناکامی وغیرہ میں راہنمائی لینے کا کہہ رہا ہوں..
ہمت کرے انسان تو کیا کچھ ہو نہیں سکتا..
ہمت کریں..نسلیں سنواریں زندگی سنواریں
#احمد مغل شہزادہ سا...
(متین احمد)

پیر، 3 اپریل، 2023

•«پراسرار لیپ ٹاپ»•

 •«پراسرار لیپ ٹاپ»

وہ لکھنے کے ہزاروں طریقوں سے واقف تھا۔۔
بے شمار موضوعات ہمہ وقت اس کی سوچوں میں گرداں رہتے۔۔۔
مگر ہوا یوں کہ وہ قلم نہیں اٹھا پا رہا تھا۔۔
لکھنا چاہ کر بھی نہیں لکھ پا رہا تھا۔۔۔۔
تین دن پہلے وہ گھر سے نکلا تو بے حد خوش تھا۔۔اس نے ایک انعامی مقابلے میں ایک تحریر لکھی تھی تو اس کی کہانی کو بہت پسند کیا گیا تھا اور اس کی تحریر کو پہلا انعام دیا گیا تھا۔۔
وہ پیسے اس کے موبائل اکاؤنٹ میں بھیج دیے گئے تھے۔۔۔
اس نے ان پیسوں سے لیپ ٹاپ لینے کا ارادہ کیا اور بازار کی طرف نکل گیا۔۔
مشہور لیپ ٹاپ مارکیٹ میں پہنچ کر اس نے اپنی استطاعت کے مطابق اچھا سسٹم ڈھونڈنا شروع کیا۔۔
ایک سیکنڈ ہینڈ لیپ ٹاپ اسے بہت پسند آیا اس نے اس کو تسلی سے چیک کیا اور پھر خرید کر گھر لے آیا۔۔
شام کو جب وہ لیپ ٹاپ استعمال کرنے بیٹھا۔۔تو اس کے علم میں آیا کہ اس میں کسی کی فیس بک آئی ڈی پہلے سے لاگ ان ہے۔۔
۔۔
وہ کسی مرد کی آئی ڈی تھی۔۔۔۔
اس کے میسنجر پر بے شمار میسج تھے۔۔اس نے ان کو چیک کیا تو اس کے علم میں آیا کہ یہ لیپ ٹاپ کسی کرائم رپورٹر کے زیر استعمال تھا۔۔۔۔
جس میں اسے مختلف جگہوں سے کرائمز کے بارے خبریں بتائی گئی تھی۔۔
ابھی وہ یہ چیک کر ہی رہا تھا۔۔کہ اس آئی ڈی پر ویڈیو کال آنا شروع ہو گئی۔
اس نے کال اٹینڈ نہیں کی، تو وہاں سے میسج آیا کہ تمہارا موبائل کیوں بند جا رہا ہے۔۔؟؟
اور اتنے دن تم کہاں تھے۔۔؟؟
میں بہت پریشان تھا۔۔
آبھی تمہیں آن لائن دیکھا ہے۔۔ تم میری کال اٹینڈ کرو ایک ضروری کام بتانا ہے۔۔!!
۔۔
اب یہ پریشان ہو گیا۔کہ اس کو کیا کہے۔۔کہ یہ لیپ ٹاپ میں خرید چکا۔۔
اس نے ہمت کی اور کہا :-یہ لیپ ٹاپ میں خرید چکا ہوں۔۔
اور میں ابھی اس کو چیک کر رہا تھا تو یہ آئی ڈی اوپن ملی۔۔تو ویسے ہی چیک کرنے لگ۔گیا۔۔
۔۔۔۔
اب کچھ دیر وہاں مینسجر باکس میں ٹائپنگ کا نوٹیفکیشن شو ہونے لگا۔۔
مگر پھر چھوٹا سا میسج ملا "آپ کون۔۔؟؟"
اس نے اپنا تعارف کروایا۔۔
دوسری طرف سے کہا گیا:- کہ آپ نے جس دوکان سے خریدا ہے ان سے رابطہ کریں یہ کس نے بیچا ہے اور کیوں۔۔؟؟
رائٹر نے دوکان پر کال کی تو معلوم ہے ہوا تین دن پہلے ایک لڑکے نے ایکسچینج کرتے ہوئے یہ لیپ ٹاپ دے کر دوسرا خریدا تھا۔۔
تو اس وجہ سے اس کا لیپ ٹاپ لیتے ہوئے اس سے آئی ڈی اور فون نمبر لینا یاد نہیں رہا۔۔۔۔
اور ملازم نے بھی سرسری سب کچھ چیک کر لیا۔۔مگر کروم براوئزر میں فیس بک اوپن کرنے کی طرف اس کا بھی دیھان نہیں گیا۔۔۔
۔۔
اب لیپ ٹاپ میں جو بندہ میسج کر رہا تھا۔۔اس نے بتایا کہ جس کی یہ ائڈی اوپن ہے یہ کچھ دنوں سےاس کا موبائل بھی سوئچ اف ہے۔۔اور یہ یہاں اکیلا رہتا تھا۔
اس کا گھر پنجاب کے کسی گاؤں میں ہے۔۔
اب میں گاؤں رابطہ کرتا ہوں۔۔شاید وہاں سے کچھ علم ہو اس بارے میں۔۔۔
گاؤں سے معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ گاؤں نہیں آیا۔۔اور اس نے کچھ دنوں سے وہاں رابطہ بھی نہیں کیا۔۔
۔۔
اب اس رائٹر کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ لیپ ٹاپ خرید کر یہ کس مخمصہ میں پھنس گیا۔۔۔
۔۔
اب آسان حل یہ تھا کہ آئیڈی بند کر کے سکون کرتا۔۔
مگر مسئلہ یہ ہو گیا تھا۔۔ کہ اس بندے نے اس سے مدد مانگی تھی۔۔کہ آپ کے پاس اگر یہ آئیڈی اوپن مل ہی گئی ہے تو ہم اس کی مدد سے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔۔۔
پولیس میں کمپلین کرنے سے یہ رائٹر گھبرا رہا تھا۔۔
اس بندے نے اپنا نام زیشان بتایا اور اس سے ملنے کے لئے کہا۔۔
مگر رائٹر راضی نہیں تھا۔۔۔
اس زیشان نامی بندہ نے اس کو دھمکایا کہ میں آئی پی ایڈرس کے زریعے تم تک پہنچ جاؤں گا۔۔۔۔۔
اس نے کہا :- "میں صبح ہی لیپ ٹاپ کو واپس مارکیٹ پہنچا دوں گا۔۔
جہاں سے خریدا تھا انہی کو دے آؤں گا۔۔ان سے اپنا مسئلہ حل کر لینا۔۔"
مگر وہ زیشان نامی بندہ اپنی بات پر مصر رہا اور کہنے لگا تم نے ابھی مدد نہ کی۔ تو ہو سکتا ہے میرے دوست کو ابھی تک کچھ نہ ہوا ہو۔۔مگر ابھی کچھ ہو جائے پھر تم ہی اس کے زمہ دار ہو گے۔۔
تم اللہ کو کیا منہ دکھاو گے اللہ پوچھے گا۔۔تم ایک بندے کو بچا سکتے تھے تو کیوں نہ بچایا۔۔؟؟
۔۔
رائٹر اب حیران و پریشان تھا کہ وہ کرے تو کیا کرے۔۔
اس نے اپنے سکون کے لئے لیپ ٹاپ خریدا تھا۔۔
اور وہ کس پریشانی میں پڑ گیا۔۔
پھر رائٹر نے لیپ ٹاپ بند کر کے ایک طرف رکھ دیا۔۔
اور انکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔۔
کچھ دیر گزری تھی کہ۔۔۔
رائٹر کو محسوس ہوا کہ کچھ لوگ اس کے گھر کی چھت پر ہیں۔۔
پھر اس نے زور سے کسی کی چھلانگیں لگا کر آنے کی آوازیں سنی۔۔
اب وہ لوگ اس کے کمرے کے دروازے تک پہنچ چکے تھے۔۔
رائٹر ایک پرانی طرز کے مکان میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا اس کی عمر محض اکیس سال تھی۔۔
وہ بندے اس کے کمرے تک پہنچ گئے اور زور زور سے دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔۔
۔۔
اچانک رائٹر تیز سانس لیتے ہوئے اٹھا۔۔اس کا جسم پسینے سے بھر چکا تھا۔۔
دروازہ ابھی بھی کھٹک رہا تھا۔۔مگر باہر اس کے والد اس کو آوازیں دے رہے تھے۔۔
رائٹر کو محسوس ہوا کہ اس کو جس چیز نے ڈرایا وہ محض ایک "خواب" تھا۔۔۔
لیپ ٹاپ اس کے سرہانے پر موجود تھا۔۔
وہ بستر سے اٹھا سانسیں اس کی بہت تیز تھی۔۔اس کے والد صاحب اسے کہ رہے تھے۔۔
بیٹا باہر آو تمہاری امی بتا رہی تھی۔۔تم نے لیپ ٹاپ خریدا ہے اور پھر شام سے اسی کے ساتھ مصروف ہو آج تم نے کھانا بھی نہیں کھایا۔۔
۔۔
اب رائٹر اٹھا اور دروازے کی کنڈی کھول کر باہر آیا تو امی بھی سامنے سے گزر رہی تھی۔۔
کہنے لگی:- "لیپ ٹاپ کیا خریدا تو نے تو کمرہ بند کر کے رات کا کھانا بھی چھوڑ دیا۔۔
ابھی کل تو شادی کا کہہ رہا تھا۔۔تیری شادی کروا دی تو تو نے تو گھر ہی بدل لینا ہے۔۔
آ جا کھانا کھا لے لگتا ہے سو رہا تھا۔۔اتنا پسینہ کیوں آ رہا ہے تجھے۔۔؟؟؟
ابھی تو موسم گرمیوں کا شروع بھی نہیں ہوا۔۔۔؟؟
ماں نے ایک ہی سانس میں سارے سوال پوچھ لیے۔۔
رائٹر جو ابھی برے خواب کے ٹراما سے باہر نہی نکلا تھا۔۔۔
اس کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی۔امی کو کیا جواب دے۔۔
اور لیپ ٹاپ میں جو آئیڈی اوپن تھی وہ بھی خواب کا حصہ ہے یا وہ اصل ہے۔۔
کچھ دیر بعد وہ ہاتھ منہ دھو کر کھانے کے لئے بیٹھ چکا تھا۔۔
یہ اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔۔اس کی بہنوں کی شادی ہو چکی تھی۔۔
موسم بہار کے دن تھے۔۔رات اور دن برابر برابر تھے۔۔
رائٹر کے ہوش اب واپس آ چکے تھے۔۔
یہ ایک فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔
اس نے کھانا کھایا اور کمرے میں آکر لیپ ٹاپ کو آن کیا۔۔تو اس آئی ڈی کو اوپن کیا تو
اس بندے کا میسج ملا۔۔
میں نے آئی پی ایڈرس کو ٹریس کر لیا ہے۔۔میں تمہاری لوکیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہوں۔۔
تم نے لیپ ٹاپ کو شٹ ڈاؤن نہیں کیا تھا۔۔تم نے صرف اس کو سلیپ پر لگایا تھا۔۔
میں دس منٹ میں تم تک پہنچ جاؤں گا۔۔تم مجھے لیپ ٹاپ دے دینا۔۔
پھر تمہارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔۔رہے گا۔۔
میسج دیکھا تو وہ پندرہ منٹ پہلے کا وقت دکھا رہا تھا۔۔
یعنی اس بندے کو ابھی تک اگر اس نے ایڈرس ٹریس کر لیا ہے تو اس کے گھر پہنچ جانا چاہیے تھا۔۔
۔۔
اچانک باہر سے بیل بجنے کی آواز آنے لگی۔۔
کوئی مین ڈور پر موجود تھا۔۔جو بیل بجا رہا تھا۔۔۔
(باقی ان شاء اللہ اگلی قسط میں)
x

پیر، 6 فروری، 2023

prep class paper

 prep class paper 

بنوانے کے لئے رابطہ کریں

03208545309 پاکستان 

ایم اے ایم گرافکس ڈیزئنر

#paper



پیر، 30 جنوری، 2023

مزدور ناول

 *مزدور*


(ایک ایسے بچے کی کہانی جو گھر سے کام کے لئے نکلا تھا۔۔مگر تقدیر نے اس کے ساتھ کیاکھیل کھیلا یہ تو پڑھنے کے بعد ہی پتا چلے گا۔۔ نوجوانوں اور ان کے والدین کے لئے سبق آموز تحریر)


وہ وہاں کھڑا  یہی سوچ رہا تھا کہ گھر کس منہ سے جاؤں گا۔۔۔


ہوا کچھ یوں کہ صبح گھر والوں نے اسے زبردستی اٹھایا کہ کچھ کام بھی کرو۔۔

ہر وقت سو سو کر اپنا اور بیڈ دونوں کا ستیاناس کر دیا ہے۔۔۔۔

ابو نے تو آئندہ کے بعد اس کے گھر رہنے پر بھی پابندی لگا دی۔۔

اور خرچہ نہ اٹھانے کا حلف لے لیا۔۔۔

امی بھی اب روز روز ابو کے طعنے سن کر تنگ آ چکی تھی۔۔۔

ابو کے بقول بچے کی عیش پسندی اور سہل پسندی امی کی 

ہی وجہ سے تھی۔۔۔ اس وجہ سے امی نے بھی نرمی کو پس پشت ڈال کر سختی سے کام لیا۔۔

وہ صبح اٹھ تو گیا مگر دماغ اس کا ماؤف تھا۔۔

کئی سالوں بعد اس کو جب صبح صبح گھر سے باہر نکلنا پڑا تو اسے  عجیب ہی مناظر نظر آ رہے تھے۔۔۔!!

بچے اسکولوں کو جا رہے تھے، مزدور کام کے لئے رواں دواں تھے۔۔سوٹڈ بوڈٹ لوگ آفس جانے کے لئے دوڑتے نظر آئے۔۔

اس کے ابو خود اسکول ٹیچر تھے جو پڑھانے جا چکے تھے۔۔۔


وہ روڈ پر کھڑا لوگوں کو گھورتا چلا جا رہا تھا۔۔


ایک جگہ کافی سارے مزدور بیٹھے تھے۔۔۔

وہ ان کے پاس گزرتے ہوئے تھوڑی دیر ٹھہرا ہی تھا کہ کئی مزدور اس کی طرف دوڑتے چلے آئے۔۔

پہلے تو وہ حیران ہوا مگر جب اس کے قریب آ کر انہوں نے پوچھا کہ جی صاحب کیا کام کروانا ہے۔۔؟؟ ہم حاضر ہیں۔۔


تو اس نے ہنستے ہوئے کہا:- میں تو خود گھر سے کام ڈھونڈنے نکلا ہوں۔۔


مزدوروں نے اسے حیران ہو کر دیکھا اور پھر اس کا مزاق اڑانے لگے۔۔


تم دو اینٹیں اکھٹی اٹھا نہیں سکتے۔۔مزدوری کیسے کرو گے۔۔؟؟۔


اس نے ان کی باتوں کو ان سنا کرتے ہوئے  وہی پر ایک کونا پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔


پورا دن  بے شمار لوگ آتے رہے اور اپنی پسند کے مزدوروں کو لے کر جاتے رہے۔۔

کوئی بھی اسے ساتھ لے کر جانے پر راضی نہیں تھا۔۔

کیونکہ اس کی شکل دیکھ کر پتا چل جاتا تھا کہ وہ سخت کام نہیں کر سکتا۔۔


دن کو ایک سخی بندہ چاولوں کے شاپر لے آیا اور ہر مزدور کو دے کر چلا گیا۔۔


ایک شاپر اس کو بھی دیا جو اس نے فورا لے لیا کیونکہ صبح اس کو گھر سے نکلتے ہوئے کسی نے بھی ناشتے کا نہیں پوچھا تھا۔۔


اور وہ خالی پیٹ ہی گھر سے نکل آیا تھا۔۔ 

اب وہ چاولوں کو ندیدوں کی طرح کھانے لگا۔۔۔


ایک اور مزدور جو صبح سے اس کی حرکات کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

اس نے اپنے چاولوں کا شاپر ابھی تک نہیں کھولا تھا۔۔اس نے اس کے چاول ختم ہوتے دیکھ کر اپنا شاپر اس کی طرف بڑھایا۔۔

بھوک زیادہ ہونے کی وجہ سے اس نے بغیر انکار کیے وہ لے لیا اور جلد ہی اس نے وہ کھا کر ختم کر دیے۔۔۔۔

اب اس کی بھوک کچھ قابو ہو  چکی تھی۔۔۔۔

 اب وہ مزدور جس نے اس کو اپنا شاپر دیا تھا۔۔

اس کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔۔

پھر اس سے آہستہ سے پوچھنے لگا۔۔"کیا نام ہے تمہارا۔۔؟؟"


٫میرا نام احمد ہے۔۔۔"اس نے کہا..


یہاں کیا کرنے آئے ہو۔۔؟؟ مزدور نے پوچھا۔


میں تو گھر سے پیسے کمانے نکلا تھا۔۔بس یہ جگہ مزدورں کی نظر ائی تو یہی بیٹھ گیا۔۔


رہتے کہاں ہو۔۔؟؟ 


بازار کے قریب ہی۔۔۔!! اس نے کہا۔


اب مزدور نے اس سے  پوچھتے ہوئے کہا:-

"شکل سے تو پڑھے لکھے لگتے ہو پھر کوئی اچھا سا کام کیوں نہیں کر لیتے۔۔!!


میں نوکری کی تلاش میں ہوں مگر مجھے ابھی تک نوکری نہیں ملی۔۔تو آج امی ابو نے  غصے سے گھر سے نکال دیا۔۔

۔۔


اچھا تو تم ابھی تک زمانے سے ناواقف ہو۔ میرے پاس کچھ کام ہیں جن کے لئے مجھے بندے چاہیے۔مزدور نے کہا۔۔


۔۔

واہ صبح سے یہاں تم بیٹھے مکیھاں مار رہے ہو اور تم کہہ رہے ہو تمہیں کام کے لئے بندے چاہیے۔۔۔۔

۔۔

اگر تمہارے پاس کام ہوتا تو تم کام پر ہوتے یہاں نہ بیٹھے ہوتے۔۔۔احمد نے ہنستے ہوئے اس کا مزاق اڑایا۔۔

۔۔

مگر مزدور نے صرف مسکرا کر مشکوک مسکراہٹ سے کہا۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے میں یہاں کام ڈھونے آیا ہوں۔۔

نہیں میں یہاں بندے ڈھونڈنے آیا ہوں۔۔سمجھدار اور خوش شکل بندے۔۔۔ جو مزدوری تو کرنا چاہتے ہو۔۔مگر شکل سے مزدور نہ لگتے ہو۔۔۔۔!!


 اب احمد بھی اس کی طرف متوجہ ہوا اس مزدور نے پرانے کپڑے تو پہنے تھے۔۔مگر اس کا انداز اس کے پرانے کپڑوں کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا تھا۔۔

اس کے بال طریقے سے پیچھے کی طرف مڑے ہوئے تھے جو کہ شانوں تک لٹک رہے تھے سر پر ایک دھوپ سے بچنے والی رنگین سی کیپ پہن رکھی تھی جس کے چھجے کا رخ پیچھے کی طرف تھا۔۔۔۔

آنکھوں کی پتلیاں  براؤن تھی۔۔اور چہرہ کی رنگت سفید تھی۔۔اس نے اگر پرانے کپڑے نہ پہنے ہوتے تو وہ کسی بھی طرف سے مزدور نہ لگتا۔۔

 تو تمہارے پاس ایسا کیا کام ہے جس کے لئے تمہیں بندے چاہیے اور وہ بھی خوش شکل۔۔۔۔!!احمد نے پوچھا.


بتاؤں گا مگر پہلے تم اپنی تعلیم بتاو۔۔مزدور نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کہا۔۔


میں مکینیکل انجینئر ہوں۔۔اور ایک سال ہو گیا ہے ابھی تک نوکری نہیں مل رہی۔۔احمد نے اپنی تعلیم بتائی۔۔


ٹھیک ہے۔۔میرے ساتھ آو۔۔۔یہ کہہ کر  وہ مزدور فورا اٹھ کر ایک سمت چل دیا۔۔

اور احمد بھی اس کے پیچھے روانہ ہو گیا۔۔

یہ راجہ بازار کا ایک علاقہ تھا۔۔

وہ یہاں سے دس منٹ پیدل چلنے کے بعد ایک تھانے کے پاس پہنچا اور اس کو ایک پرچی دی کہ روڈ کے دوسری طرف تھانے کے باہر جو سفید رنگ کے کپڑے پہنا شخص کھڑا ہے اس کو دے دو۔۔۔


احمد کو تفشیش ہوئی کہ یہ کیسی مزدوری ہے جو پرچی پکڑانے سے شروع ہوتی ہے۔۔اس نے اس کو غصے سے کہا کیا یہ ہے وہ کام جس کے لئے تمہیں بندے چاہیے۔۔۔

تم تو مزدور کم اور کوئی فراڈ زیادہ لگ رہے ہو۔۔


وہ بندہ بغیرے چہرے کے تاثرات بدلائے کھڑا رہا اور اس نے ہزار کا ایک نوٹ احمد کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ اس پرچی کو وہاں تک پہنچانے کی مزدوری ہے۔۔

احمد تھوڑی دیر کے لئے ہچکچایا مگر جب اس کو گھر والوں کا صبح کا رویہ یاد آیا تو اس کی اپنی سوچ کے مطابق  یہ کام کرنے کا ارادہ کر لیا اس نے نوٹ پکڑ کر جیب میں ڈالا۔۔

اور سفید کپڑوں والے کی طرف پرچی لے کر چل پڑا۔۔

احمد کی عمر محض اکیس سال تھی۔۔ 

اور دیکھنے میں معصوم بچہ لگتا تھا۔۔جسم مضبوط تھا اور بے ریش تھا۔۔مونچھیں ہلکی ہلکی نکل رہی تھی۔۔۔

رنگت سفید تھی، انکھوں کی پتلیاں مکمل سیاہ۔۔

احمد جب اس سفید کپڑے والے بندے کے پاس پہنچا تو وہ کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔۔

وہ گھنی داڑھی ، مونچھوں والا  کالی سی رنگت والا پتلا سا شخص تھا۔۔۔

احمد اس کے سامنے کھڑا ہوا اور پرچی اس کی طرف بڑھائی اس نے احمد کو غور سے دیکھا اور اردگرد دیکھ کر احمد سے پرچی لے لی۔۔۔

احمد اس کو پرچی دے کر روڈ کراس کر کے اسی جگہ آیا جہاں سے مزدور نے اس کو بھیجا تھا۔۔

اب وہاں وہ مزدور نہیں تھا۔۔

اور جب اس نے مڑ کر تھانے کی طرف نظر دوڑائی  تو وہ سفید کپڑوں والا بھی وہاں نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔

اب تھوڑی دیر وہ وہی کھڑا ارد گرد دیکھتا رہا۔۔

اکتوبر کا مہینہ تھا اب دن کے دو بج چکے تھے۔۔

اس کے جیب میں ایک ہزار کا نوٹ تھا۔۔اب اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔گھر جا کر کیا بتائے گا کہ اس نے یہ پیسے کیا کام کر کے حاصل کیے۔۔۔

(باقی ان شاءاللہ جلد ہی)

متین احمد

 بےنام لکھاری

ہتھکڑی-قیدی-The Companion of Love

 ہر قید اذیت کے لئے نہیں ہوتی

بعض قیدیں محبت کے لئے ہوتی ہیں..کسی ایسے کی طرف سے جو آپ کو خود سے دور نہ کرنا چاہتا ہو...

آپ کو کھونا نہ چاہتا ہو...
جیسا کہ اللہ نے ہم پر قیود لگائی ہیں تو وہ ہم سے محبت کی وجہ سے ہیں...
اگر ہمیں گناہ کا موقعہ نہیں ملتا..تو اللہ ہمیں دنیا کی رنگینوں میں کھونے سے بچانا چاہتے ہیں..
ورنہ شیطان کو جس طرح دھتکار دیا..
فـاخـرج مـنـھـا فـانـک رجـیـم
(نکل جا یہاں سے پس تو مردود ہے)
اللہ ہمیں بھی ایسے دھتکار دے تو اسے فرق نہیں پڑے گا..
مگر اللہ کہتے ہیں
میری رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو..
یہ اللہ کی ہم سے محبت ہے...
اس لئے اللہ کی قیدوں کو اذیت کی بجائے محبت سمجھیں..
بےنام لکھاری

اتوار، 29 جنوری، 2023

بازار-market

 بازار میں ہونا اور بازار کا دل میں ہونا۔۔۔

ذکر الہی دونوں میں تفریق کرتا ہے۔۔۔
لا اله الا اللہ وحدہ لا شریک له، له الملک وله الحمد، یحیی ویمیت