بدھ، 31 مئی، 2017

شعر

تجھے اب کس لئے شکوہ ہے کہ بچے گھر نہیں رہتے​...
جو پتے زرد ہو جائیں____وہ شاخوں پر نہیں رہتے​...
​
تو کیوں بے دخل کرتا ہے__ مکانوں سے مکینوں کو​...
وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں__جن کے گھر نہیں رہتے​...
​
جھکا دے گا تیری گردن کو_____ یہ خیرات کا پتھر​...
جہاں میں مانگنے والوں کے __اونچے سر نہیں رہتے​
​
یقینٍا___________یہ رعایابادشاہ کو قتل کر دے گی​...
مسلسل جبر سے محسن__دلوں میں ڈر نہیں رہتے...

#محسن_نقوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں