جمعرات، 11 اگست، 2022

بچوں کے لئے سبق آموز کہانی


 کل "ڈیجیٹل ہب" والوں کا ٹو ڈی اینیمیشن کورس
 
کا اشتہار دیکھا۔

مجھے بھی اس طرح کے کارٹون بنانے کا بہت شوق ہے۔۔۔
مصروفیت کی وجہ سے کورس میں تو شمولیت نہیں کر سکا۔۔۔
مگر پرسوں ایک دن کی فرصت  تھی تو بچوں کے لئے ایک سبق آموز کارٹون بنا دیے۔۔۔۔
دوسری کوشش ہے امید ہے آپ کو پسند آئے گی۔۔۔
وائس اوور:- بے نام لکھاری
رائٹر:- متین احمد
اینیمیشن کریئیٹر: احمد مغل
#احمد-(متین احمد)
بےنام لکھاری


منگل، 14 جون، 2022

چارجنگ والا پنکھا solar fan charging fan hand fan

 250 کا پنکھا#

#


تصویر میں نظر آنے والا پنکھا کچھ سال پہلے 5 ہزار پانچ سو کا خریدا گیا تھا۔۔۔ 

اس وقت اس کی قدر نہیں کی بس پڑا رہتا تھا۔۔۔

پھر پڑے پڑے اس کا سر دھڑ سے الگ ہو کر ٹوٹ گیا۔۔۔

کوئی ترکیب بھی سمجھ نہ آتی تھی کہ اس کو جوڑا کیسے جائے اور پھر اس کی بیٹری بھی ڈیڈ ہو چکی تھی تو اس پنکھے کو کباڑ سمجھ کر کونے میں رکھ دیا گیا۔۔


بھلا ہو نیک حکومت کا کہ بجلی کا اتنا مسئلہ بنا کہ عقل کے بند دریچے کھلتے چلے گئے بجلی سے بچاو کے لئے جب اس طرح کے پنکھے کا ریٹ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اب یہ پندرہ سے اٹھارہ ہزار کے درمیان ہے۔۔

۔۔

پھر میں نے اسی اپنے کباڑی پنکھے کو عزت و احترام سے اٹھایا "جناب الیکٹریشن صاحب" کے در پر قدم بوسی کے لئے بھیجا۔۔۔

میرا خیال تھا مہنگائی کے اس دور میں جناب نے اگر اس کو ٹھیک بھی کر لیا تو ہزار سے کم بل نہیں بںائیں گے۔۔۔


مگر شاید وہ نیک دل آدمی تھا۔۔اس نے دو سو پچاس روپے میں اس کو ٹھیک کر دیا۔۔


اور پھر اب بیٹری کا مسئلہ اس طرح حل کیا کہ موٹر سائیکل کی ایک نئی بیٹری کسی زمانے میں ہارن بجانے کے لئے موٹر سائیکل میں لگائی تھی۔تاکہ غافل قوم کو جگایا جا سکے۔۔

۔لیکن اس قوم کو تو خان اور شہباز شریف نے مل کر زور لگایا تب نہیں جاگے تو ہمارے ہارن سے کس طرح جاگتے تو وہ بیٹری اس پنکھے میں لگا دی۔۔تاکہ بجلی جائے مگر ہم بھی اپنی قوم کی طرح مزے سے سوتے رہیں۔۔۔

ہمارے جاگنے سے کیا فرق پڑنا ہے۔۔۔


اب سر اور دھڑ کو جوڑنے کا مسئلہ تھا تو ایک ویڈیو میں دیکھا کہ ایک بندے کے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اس پر ٹیپ کو اس

 طرح لپیٹا گیا کہ وہ بندہ دونوں جڑے ہاتھوں کا زور لگانے کے  باوجود ہاتھ الگ نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔


پھر میں نے بھی پنکھے کے سر اور ڈنڈے کو  جوڑ کر ایسی ٹیپ لگائی جیسے سستے عاشق اپنے اس خط کو جوڑتے ہوئے لگاتے ہیں جس کو ان کی محبوبہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیتی ہے۔۔۔۔

۔۔

اس سارے عمل میں میری جیب سے صرف ڈھائی سو روپے گئے اور میں ڈھیروں ان گناہوں سے بچ گیا جو عوام بجلی جانے کے بعد حکمرانوں کو یاد کر کے کماتی ہے۔۔۔

آپ کے پاس بھی اگر کوئی فالتو کاٹھ کباڑ پڑا ہے تو اس کو نکالیں جوڑیں اگر خود نہیں استعمال کر سکتے تو کسی اور کو دے دیجیے۔۔شاید آپ کا کباڑ کسی دوسرے کے لئے سونا ہو۔۔۔

بےنام لکھاری 

مولانا متین احمد

پیر، 9 مئی، 2022

مارکیٹنگ کیسے کرتے ہیں

*ماڈل گرل* 

 ...(یونیورسٹی)..

 احمد یونیورسٹی کے ہی کیفے ٹیریا میں ایک بے انتہاء خوبصورت لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا... دور سے دیکھنے والے اس کے دوست اس کی قسمت پر رشک کر رہے تھے... وہ خوبصورت لڑکی کے ساتھ بیٹھ کر صرف باتیں ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ اپنے موبائل سے اس کو کچھ دلچسپ بھی دکھا رہا تھا 

احمد لڑکی کو اپنا وہ فیس بک پیج دکھا رہا تھا جہاں وہ لیڈیز ڈریس، جیولری اور جوتے بیچا کرتا تھا 

وہ اس خوبصورت لڑکی کو خریداری کرنے کے لئے کچھ اس طرح قائل کر رہا تھا:- "میں آپ کو جس قیمت پر چیز دے رہا ہوں.. آپ کے پاس موبائل ہے آپ ابھی آن لائن کسی اور سٹور سے اس ڈریس کی قیمت معلوم کر لیں.. فیس بک کی مارکیٹ پلیس میں اس سے ملتے جلتے ڈریسز کی قیمت دیکھ لیں اس کے علاوہ علی بابا، دراز اور او ایل ایکس پر بھی اس کی قیمت جانی جا سکتی ہے... اور ارجنٹ اور یقینی معلومات چاہیے تو قریب کی لوکل مارکیٹ میں چلی جائیں.. میرا ریٹ ان سے پچاس پرسنٹ کم ہی ہو گا..."


 خوبصورت لڑکی نے ہنستے ہوئے حیرانگی سے پوچھا:- "مگر آپ اپنی پراڈکٹ مجھے اتنی کم قیمت پر کیوں بیچنا چاہتے ہیں...؟؟

 احمد نے کہا :- "دیکھیں میڈم..! میں ایک طالبعلم ہوں..مگر ذہنی طور پر کاروباری ہوں.. دنیا میں ہر پراڈکٹ بیچنے والے اپنی چیز کو مشہور کرواتے ہیں..اور مشہوری کے لئے ایڈ چلواتے ہیں.. اور ایڈز میں حسین و جمیل ماڈلز کے ذریعے اپنی پراڈکٹ کو مشہور کروایا جاتا ہے... اب میرے پاس اتنا سرمایا تو ہے نہیں کہ کسی ماڈل کو ہائر کروں... اب پوری یونیورسٹی میں مجھے آپ ہی بے حد دل کش اور حسین معلوم ہوئی ہیں.. میرے خیال میں آپ یونیورسٹی میں تو کم از کم ماڈل کا ہی درجہ رکھتی ہیں..، اب آپ کو میں اپنے پیج کی اشیاء بیچنے کے لئے بطور ماڈل ہائر تو نہیں کر سکتا... البتہ میں آپ کو اپنی پراڈکٹ سستے داموں بیچ کر اپنی پراڈکٹ کی مشہوری کروا سکتا ہوں... اسی لئے میں آپ کو قیمت انتہائی کم بتا رہا ہوں.. تاکہ وہ ڈریس اور جوتے پہن کر جب آپ یونیورسٹی میں چکر لگائیں گی تو آپ کو دیکھنے والی ساری نظروں تک میری پراڈکٹ پہنچ جائے گی..کیونکہ بیشتر لڑکیوں کو میں نے دیکھا ہے وہ آپ کو فالو کرتی ہیں


 خوبصورت لڑکی احمد کی اس کاروباری ڈیل سے بے حد متاثر ہوئی اور اس نے اس سے خریداری کر لی اور اس کے پیج پر 
اچھا ریویو بھی دیا

احمد نے آخر میں اس خوبصورت لڑکی سے ایک شرط طے کر لی کہ میرے سے خریدا ڈریس اور جوتے آپ نے دس دن بعد آنے والے فیسٹول کے دن پہننے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ ڈیزائن پہنچ جائے.. .. ...

(فیسٹول کا دن)


.. آج فیسٹول کا دن ہے اور ہر طرف ہی گھما گھمی ہے....

 لڑکیاں جمع ہونا شروع ہو گئی ہیں..اور فطرتا ہی ہر لڑکی دوسرے کی ڈریسنگ اور تیاری کو دیکھ رہی ہے... پھر حیرت انگیز طور اکثر لڑکیوں کو ایک دھچکا لگنا شروع ہوا جب بہت سی لڑکیاں ایک ہی برانڈ کے ملتے جلتے ڈیزائن والے ڈریسز میں نظر آنے لگی... 

 تقریبا سو کے قریب لڑکیوں نے احمد کا ہی برانڈ پہن رکھا تھا.. اب ہر لڑکی دوسرے سے پوچھ رہی تھی... کیا اس نے تمہیں بھی یونیورسٹی کی خوبصورت اور پرکشش لڑکی کہہ کر اپنا سوٹ بیچا ہے..؟؟ کیا اس نے تمہیں بھی یونیورسٹی کی ماڈل گرل کہہ کر اپنی پراڈکٹ بیچی ہیں..؟؟؟


 اب یونیوسٹی میں "احمد" کی تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ احمد تو یونیورسٹی میں موجود ہی نہیں ہے بلکہ اس فیسٹیول کے بعد بھی کسی نے اس کو ڈگری پوری کرتے نہیں دیکھا.. کیونکہ اس نے ڈگری کو وہی سے چھوڑ کر اپنا آن لائن سٹور کھول لیا تھا اور ڈگری پوری کیے بغیر ہی وہ آن لائن تجارت سے لاکھوں کما رہا ہے..!! ویسے ان تمام خوبصورت لڑکیوں میں سے اکثر نے جب احمد کو میسج کیا کہ "تم نے مجھ سے جھوٹ بولا اور مجھے یونیورسٹی کی حسین اور پرکشش لڑکی کہہ کر... ، پھر ماڈل گرل بنا کر اپنے کپڑے اور جوتے بیچے" تو احمد نے ہر لڑکی کو ایک ہی جواب دیا:- "کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں نے آپ کے حسن اور کشش کے بارے میں آپ سے جھوٹ بولا تھا...؟؟" حیران کن طور پر کسی بھی لڑکی نے اس کو "نہ" نہیں بولا...! بلکہ وہ احمد کے ہی برانڈ سے دوبارہ بھی شاپنگ کرتی رہی ہیں.... .. نوٹ : تحقیق سے پتا چلا ہے کہ احمد فیسٹیول سے دس دن پہلے کے تیاری کے دنوں میں صرف اپنی پراڈکٹ بیچنے ہی یونیورسٹی گیا تھا... ورنہ وہ ایک آن لائن سٹور کا اونر تھا.. اس لئے آپ اگر طالبعلم ہیں تو اپنی ڈگری پوری کریں ان لائن سٹور بعد میں کھول لینا.. 

  اس تحریر کو پڑھ کر مزہ آیا ہے تو احمد کے فیس بک پیج کو

شکریہ  لائک  ضرور کریں،... ..

پیج پر جانے کے لئے اس پر ہی کلک کریں

 
 تعاون کا شکریہ 
متین احمد

Shahdara, Islamabad اسلام آباد کا شاہدراہ

  Shahdara, Islamabad اسلام آباد کا شاہدراہ

 ،،اسلام آباد کے ایک  پر فضا مقام پر چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے بیچ سے بہتی ایک چھوٹی سی ندی

گرمیوں میں یہ راولپنڈی اور اسلا آباد والوں کے لئے ایک بہترین تفریح کا مقام ہے،

کم وقت اور کم خرچہ میں پہاڑی اور شمالی علاقہ جات کے مزے یہاں ملتے ہیں



منگل، 26 اپریل، 2022

عربی حکایات قصے کہانیاں

 عربی حکایات

(عربی سے اردو ترجمہ)

مترجم مولانا متین احمد

*لالچ*

لالچیوں کے قصے تو آپ نے بہت سن رکھے ہوں گے مگر عرب کے "اشعب" نامی شخص کی لالچ کے بارے میں جانیں گے تو حیران رہ جائیں گے

کہ عرب میں اس کو بطور محاورہ استعمال کیا جاتا تھا کہ" فلاں اشعب سے بھی زیادہ لالچی ہے"
اشعب کا ایک واقعہ اس طرح ہے کہ اشعب ایک مرتبہ مدینہ کے گلیوں میں چکر لگا رہا تھا کہ اس نے کچھ بچوں کو کھیلتے دیکھا
اچانک اس کے دل میں شرارت سوجھی..
اس نے ان بچوں کو مخاطب کر کے کہا"اوئے پاگلو..!!
تم یہاں کھیل رہے ہو وہاں سالم بن عبداللہ عمر کے صدقہ میں کھجوریں بانٹ رہے ہیں.."
بچے کھیل چھوڑ کر سالم بن عبداللہ کے گھر کی طرف دوڑ گئے...
اچانک اشعب بھی ان کے پیچھے دوڑنا شروع ہو گیا
اور ساتھ یہ بھی کہتا جا رہا تھا
..
"کیا پتہ میری بات سچی ہی ہو جائے تو میں کہیں مفت کی کھجوروں سے رہ نہ
جاؤں"


*مرنے کے بعد بھی لڑائی اور طنز*

عربی حکایت ہے ایک بندہ قبرستان میں سے گزر رہا تھا..
اس نے ایک قبر کے کتبے پر لکھا دیکھا
"میں اس شخص کا بیٹا ہوں..جو جس وقت بھی چاہتا زبرستی ہوا کو روک لیتا تھا اور جب چاہتا واپس چھوڑ دیتا تھا"
وہ شخص کہتا ہے:-
اس مصرع کی وجہ سے میری نظر میں اس صاحب قبر کی بہت عظمت پیدا ہو گئی..
پھر اچانک میری نظر ایک دوسری قبر کی طرف گئی...جو بالکل اس کے سامنے ہی بنی ہوئی تھی..
اس پر بھی ایک کتبہ لگا تھا جس پر لکھا تھا
"اس کا قول تمہیں دھوکے میں مت ڈال دے...
اس کا باپ ایک لوہار تھا...
جو اپنے کیر
((لوہاروں کا ایک اوزار جس کو دباتے تھے تو اس میں ہوا جمع ہو جاتی تھی اور پھر دوبارہ دباتے تو ہوا چھوٹ جاتی تھی))
میں ہوا کو روک لیتا تھا اور پھر اسی میں تصرف کرتا رہتا تھا.."
وہ شخص کہتا ہے مجھے ان میتوں کے ایک دوسرے کو طنزاً برا کہنے نے بہت
تعجب میں ڈال دیا



*اَنْـفٌ فِـی الـمـاء واِسـتٌ فی الـسماء*

(ناک پانی میں اور سرین آسمان کی طرف)
اردو محاورہ :چھوٹا منہ بڑی بات
ایک مرتبہ خلیفہ مامون الرشید اپنی سواری پر سوار کہیں سے گزر رہا تھا..
اچانک اس کے کانوں میں ایک نشئی بھنگی کی آواز سنائی دی جو کہہ رہا تھا:-
"اس بندے نے جب سے اپنے بھائی سے غداری کی ہے ، میری نظروں سے گر گیا ہے"
مامون نے یہ سنا تو اونچی آواز میں کہنے لگا:-
یہاں کوئی ایسا شخص ہے جو میری سفارش کرے تاکہ میں اس معزز رئیس کی نظروں سے گرنے کے بعد دوبارہ اپنا مقام بنا سکوں..؟؟
سبق: بات اپنی اوقات میں رہ کر کرنی چاہیے.
03208545309 آن لائن قرآن ٹیچر مولانا متین احمد
اصل حکایت: نفحة العرب مولانا اعزاز علی

منگل، 8 مارچ، 2022

G Drive

 

گوگل کی یو ایس بی


اگر آپ نے جی میل کی آئی ڈی بنا رکھی ہے اور یقینا ہر وہ شخص جس کے پاس موبائل ہے اس کی جی میل ضرور ہو گی


مگر کیا آپ جانتے ہیں،گوگل نے ڈیٹا محفوظ کرنے کا بھی سسٹم بنا رکھا ہے،

جی ڈرائیو وہ آپشن ہے جو گوگل اپنے ہر یوزر کو فراہم کرتا ہے،اس کے زریعے یوزر پندرہ جی بی کا ڈیٹا مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کر سکتا ہے


اب موبائل گم ہوجائے یا چوری ہوجائے یا سکرین ٹوٹ جائے تو کسی دوسرے موبائل یا کمپیوٹر میں اپنا جی میل اکاؤنٹ کھولیں اور اپنا جی ڈرائیو میں  محفوظ کردہ ڈیٹا آرام سے حاصل کریں،اور یہ سہولت بالکل مفت ہے ،اس ویڈیو میں اسکے استعمال کا طریقہ بھی بتایا ہے ویڈیو دیکھیں اور 

https://www.facebook.com/100033051667054/videos/699588441403747/

یو ٹیوب پر ویڈٰیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

 رائے سے ضرور نوازیں

اور کیا آپ کوجی ڈرائیو کے بارے میں معلوم تھا۔۔؟؟

منگل، 1 مارچ، 2022

facelore

فیس بک سے فیس لور تک

ایک وقت تھا جب فیس بک نیا نیا وجود میں آیا تھا لوگ اس کو شغل میلہ ہی سمجھتے تھے،تصویریں لگاتے تھے خوش ہوتے تھے،

رومن اردو لکھا کرتے تھے،

لڑکی کے نام سے آئی ڈی بنا کر پورا پورا دن وقت کا ضیاع کرتے تھے،

پھر دور بدلا فیس بک میں پڑھے لکھے لوگوں نے شمولیت اختیار کی اس کو سیکھنے سکھانے کے لئے استعمال کرنا شروع کیا،،

فیس بک نے فیک آئی ڈیز بند کرنا شروع کر دی،

فیس بک نے اردو زبان کو شامل کیا،اور یوں اردو ادب کے لکھاری وجود میں آںا شرع ہو گئے،

وقت گزرتا رہا فیس بک نے مسلمانوں کے لئے پالیسیاں سخت بنانا شروع کی ،ان کا لکھا کمیونٹٰی سٹینڈر کے نام پر مٹانا شروع کر دیا۔

اب لکھنے والے کہاں جائیں جب کے پڑھنے والے ہی اس پلیٹ فارم پر موجود ہوں،

پھر اشاروں کنایوں سے لکھتے لکھتے وہ تحریر میں روانی نہیں آسکتی تھی جو آزادی سے لکھنے میں تھی،

،پھر انعام رانا نامی پاکستانی شہریت کے حامل شخص کو خیال آیا کہ مارک زکر برگ جیسے  بندہ پاکستان سے فیس بک کے زریعے ڈھیروں پیسہ بھی کما رہا ہے اور انہی کو آذادی سے لکھنے نہیں دے رہا،

تو انہوں نے ایک پلیٹ فارم فیس لور کے نام کو وجود میں لایا،پاکستانی ویب سائٹ ہونے کی وجہ سے یہاں ہر قسم کے مواد کے لکھنے کی آذادی دی،اور  یوں فیس بک کے ستائے لکھاری اور بڑی بڑٰی شخصیات جو کافی عرصے سے کسی اچھے پلیٹ فارم کے انتظار میں دھوپ سیک رہے تھے،فورا ہی یہاں کھنچے چلے آئے اور اس میں شمولیت اختیار کرنا شروع کی،

اب دیکھتے ہی انعام رانا اس کو کتنا سنبھالتے ہیں اور کب تک سنبھالتے ہیں،

اگر آپ بھی پاکستانی ہیں تو ابھی ہی فیس لور کو جوائن کریں اور فیس بک کی قید سے باہر آجائیں اپنی ویب سائٹ پر اپنا مواد دل کھول کر لکھیں اب کوئی کمیونٹی سٹینڈر کے نام پر آپ کا موادنہیں مٹائے گا 

،تحریر

متین احمد

 یہ میری فیس لور  کی پروفائل کا لنک ہے کھول کر چیک کریں

https://www.facelore.com/Mateen500

بے نام لکھاری



#facelore #facebook #new_earning_app